Indian Movies

وہ طوائف جو ایک رات کا 30 لکھ روپے لیتی تھی، پھر اچانک ایسا کیا ہوا کہ سب کے لئے سبق بن گیا

قبر بنانی ہے
آج سے پندرہ سال پہلے کی بات ہے ہمارے محلے میں ایک گورکن رہتا تھا جوفوت ہو چکا ہے نام محمد یوسف تھام مضبوط جسم اور بڑی بڑی آنکھیں جن میں نور ہی نور بھرا ہوا تھا۔ ایمان اس کے چہرے سے چھلکتا تھا۔ باریش چہرہ اس کی ایک ہی روٹین تھی صبح گھر سے نکلتا اور شام کو قبرستان سے واپس آتا تھا۔ ہمیشہ راستے کے ایک طرف ہو کر چلتا تھا اور کسی کی طرف بری نظر سے نہیں دیکھتا تھا۔ ایک دن محلے کے پڑھے لکھے لڑکے اکٹھے ہوئے اور یوسف سے کہنے
لگے کہ آپ کی ساری قبرستان میں گزر گئی ہے میں کوئی واقعنائیں۔ بین کر یوسف سنجیدہ ہوا اور میں سانس لی اور کہنے لگا۔ آج مجھے 7 سال ہو گئے ہیں میں قبریں بنارہا ہوں میرے ساتھ ایک ہی واقع گز را ہے گرمیوں کی دو ہتھی
کچھ لوگ میرے پاس آئے کہ بابا جی قبر بنانی ہے۔ میں نے پوچھا کہ آدمی ہے یاعورت ہے تو انہوں نے بتایا کہ عورت… کرنٹ لگنے کی وجہ سے فوت ہوگئی ہے۔ وہ لوگ یہ کہہ کر چلے گئے۔ میں عمو باکیلا ہی قبر بناتا ہوں میں نے سخت گرمی میں قبر بنانا شروع کردی۔ دوپہر دوڈھائی
بجے تک قبرمل ہوگئی. قبر کو فائنل ٹچ د ینے کیلئے میں نے قبر کے اندر کدال ماری تو مجھے ایسے آواز آئی جیسے کوئی شیشے کی چیز ٹوٹ گئی ہے اور بس پھر خوشبوی خوشبو پھیل گئی اور قبر ٹھنڈی ہوگئی میں قبر میں ہی لیٹ گیا باہر سخت گرمی تھی اندر قبر ٹھنڈک اور خوشبو سے بھری ہوئی تھی اس سے میری روح تک خوش ہوگی. میں حیرانی اور دہشت سے خاموش رہا مغرب کے بعد جنازہ آگیا عورت کے ورثاء نے اسے دفنا دیا اور چلے گئے مگر میرے اندر جس بھرا ہوا تھا کہ اس عورت کی کون سی نیکی ہے جو اس کو اتنابڑا انعام ملا ہے. باتوں ہی باتوں میں میں نے معلوم کرلیا تھا کہ یہ عورت فرید گیٹ بہاولپور کے اندر رہنے والی تھی اور کھلی کے کرنٹ لگنے سے فوت ہوگئی ہے، آبا و اجداد یہیں کے رہنے والے
تھے میں پوچھتا ہوا فرید گیٹ بن گیا اور عورت کے بارے میں معلوم ہوا کہ اس عورت کا خاوند کچھ عرصہ پہلے فوت ہو گیا تھاوہ بیچارہ چھ سات سال بارہا اس عورت نے دن رات اس کی خدمت کی۔ خاوند کی شدید بیماری کے باوجود اس کے ساتھ بے وفائی نہیں کی اور دل و جان سے اس کی تیار داری کرتی رہی۔ باوجود غربت کے اس کو محنت مزدوری کر کے کھانا کھلاتی رہی اور اپنے جذبات کو اپنے پیار خاوند پرقربان کر دیا جولوگ اللہ تعالی کی رضا کی خاطر بے لوث انسانیت کی خدمت کرتے ہیں اور اپنی راتیں بھی اللہ کی راہ میں جاگتے ہیں. انہی لوگوں کے بارے میں الله تعالی نے فرمایا ہے کہ میں ایسے ایسے انعامات دوں گا کہ جس کو کسی آنکھ نے دیکھا اور کسی نے تصور بھی نہیں کیا خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کی قبر میں خوشبو اور ٹھنڈک سے بھری ہو میں ہیں۔ دعا ہے کہ الله تعالی ہمیں اور سب مسلمانوں کو بخش دے اور آخرت میں ٹھنڈک عطافرمائی

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button